یومِ دفاع پاکستان تحصیل سمندری میں شہداء و غازیوں کو خراجِ عقیدت

samundri samundri 1 منٹ کا مطالعہ

سمندری (نامہ نگار) 6 ستمبر یومِ دفاع پاکستان کے موقع پر تحصیل سمندری میں مختلف سماجی، سیاسی اور مذہبی شخصیات کی جانب سے پروقار تقریبات اور خصوصی نشستوں کا انعقاد کیا گیا، جن میں علمائے کرام، سیاسی و سماجی رہنماؤں اور معزز شہریوں نے 1965ء کی جنگ کے شہداء اور غازیوں کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے ملکی سلامتی، قومی یکجہتی اور وطن عزیز کی ترقی و خوشحالی کے لیے اپنے عزم کا اظہار کیا۔

اس موقع پر ممبر قومی اسمبلی چوہدری شہباز بابر نے اپنے پیغام میں کہا کہ ملکی دفاع، قومی اتحاد اور وطن کی سلامتی پوری قوم کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ 6 ستمبر ہماری قومی تاریخ کا ایک درخشاں باب ہے، جب پاک فوج کے جوانوں نے جرأت، بہادری اور بے مثال قربانی کا مظاہرہ کرتے ہوئے دشمن کے عزائم کو ناکام بنایا۔ انہوں نے کہا کہ شہداء اور غازیوں کی قربانیاں قوم کے لیے عزم، حوصلے اور حب الوطنی کی روشن مثال ہیں، ہمیں ان کے جذبۂ ایثار و قربانی کو اپنی عملی زندگی کا حصہ بناتے ہوئے ملک کی ترقی، خوشحالی اور استحکام میں اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔

ممبر صوبائی اسمبلی راؤ کاشف رحیم خان نے کہا کہ وطن عزیز کے شہداء کی لازوال قربانیاں قومی تاریخ کا ناقابلِ فراموش باب ہیں۔ یومِ دفاع ہمیں ان عظیم سپوتوں کی جرأت، بہادری اور جذبۂ حب الوطنی کی یاد دلاتا ہے جنہوں نے ملکی دفاع اور سلامتی کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی سلامتی، خودمختاری اور سربلندی کے لیے قوم کو متحد ہو کر اپنا کردار ادا کرنا ہوگا اور شہداء کی قربانیوں کو محض یاد کرنے کے بجائے ان کے مشن کو آگے بڑھاتے ہوئے وطن عزیز کی ترقی، خوشحالی اور استحکام کے لیے عملی اقدامات کرنا ہوں گے۔

اسسٹنٹ کمشنر سمندری قمر محمود منج نے اپنے پیغام میں کہا کہ 6 ستمبر پاکستان کی تاریخ کا اہم اور یادگار دن ہے جو قوم کو شہداء اور غازیوں کی لازوال قربانیوں، جرأت اور حب الوطنی کی یاد دلاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاک فوج کے جوانوں نے وطن عزیز کے دفاع کے لیے بے مثال بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے دشمن کے ناپاک عزائم کو ناکام بنایا۔ یومِ دفاع کا تقاضا ہے کہ ہم شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کے ساتھ ساتھ ملک کی سلامتی، ترقی اور استحکام کے لیے اپنی ذمہ داریاں دیانت داری سے ادا کریں۔

قمر محمود منج نے مزید کہا کہ پاکستان کی تعمیر و ترقی، امن اور خوشحالی کے لیے قومی یکجہتی، قانون کی پاسداری اور باہمی تعاون کو فروغ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ ہمیں قومی مفاد کو مقدم رکھتے ہوئے وطن عزیز کی خدمت کے لیے اپنا کردار ادا کرنا ہوگا، یہی شہداء کی قربانیوں کو حقیقی خراجِ عقیدت پیش کرنے کا بہترین ذریعہ ہے۔


میاں ممتاز علی چیف آرگنائزر، المجاہد ویلفیئر آرگنائزیشن سمندری نے اپنے پیغام میں کہا کہ 6 ستمبر 1965ء کا دن قومی تاریخ میں جرأت، عزم اور قربانی کی علامت ہے۔ انہوں نے کہا کہ وطن کے دفاع کے لیے جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے شہداء پوری قوم کے محسن ہیں اور ان کی قربانیاں آنے والی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ ہیں۔

میاں شبیر احمدمہالمی نے کہا کہ یومِ دفاع پاکستان ہمیں اپنے بہادر شہداء اور غازیوں کی لازوال خدمات کو یاد کرنے اور ان کے نقشِ قدم پر چلنے کا درس دیتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کی سلامتی، استحکام اور سربلندی کے لیے قومی اتحاد و یکجہتی کو مضبوط بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

مولانا یاسر علوی نے اپنے پیغام میں کہا کہ پاکستان کا دفاع اور قومی سلامتی ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ انہوں نے شہداء کی قربانیوں کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ وطن عزیز کی ترقی، امن اور خوشحالی کے لیے ہر فرد کو اپنی ذمہ داری دیانت داری اور اخلاص کے ساتھ ادا کرنا ہوگی۔

ملک شاہد جاوید نے کہا کہ 6 ستمبر ہمیں ان عظیم سپوتوں کی یاد دلاتا ہے جنہوں نے مادرِ وطن کے دفاع کے لیے اپنی جانوں کی قربانی دی۔ انہوں نے کہا کہ شہداء کی قربانیوں کو حقیقی خراجِ عقیدت یہی ہے کہ ہم قومی مفاد کو مقدم رکھتے ہوئے پاکستان کی ترقی، خوشحالی اور استحکام کے لیے متحد ہو کر کردار ادا کریں۔

دیگر سیاسی، سماجی اور مذہبی شخصیات نے بھی اپنے الگ الگ پیغامات میں شہداء و غازیوں کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان کی سلامتی، خودمختاری اور سربلندی کے لیے قومی اتحاد کو فروغ دیا جائے گا اور وطن عزیز کی ترقی و خوشحالی کے لیے بھرپور کردار ادا کیا جائے گا۔

پاکستان زندہ باد
پاک فوج پائندہ باد

شیئر کریں: