خیرات سے مستقل روزگار تک — تحصیل سمندری فلاحی ماڈل | حصہ اول

میاں مدثر میاں مدثر 1 منٹ کا مطالعہ

صبح کی اذان کے بعد تحصیل سمندری کے کسی بھی گاؤں یا قصبے میں زندگی آہستہ آہستہ بیدار ہونا شروع ہو جاتی ہے۔ کسان اپنے کھیتوں کا رخ کرتے ہیں، دکاندار شٹر اٹھاتے ہیں، طلبہ اسکولوں اور کالجوں کی طرف روانہ ہوتے ہیں، جبکہ بے شمار نوجوان روزگار کی تلاش میں فیصل آباد، لاہور یا دوسرے شہروں کا سفر کرتے ہیں۔ بہت سے لوگ بیرونِ ملک محنت کر رہے ہیں اور اپنی کمائی کا ایک حصہ اپنے گھروں کو بھیجتے ہیں تاکہ ان کے خاندان بہتر زندگی گزار سکیں۔

یہ منظر صرف آج کا نہیں، برسوں سے ہماری اجتماعی زندگی کا حصہ ہے۔

لیکن اس روزمرہ زندگی کے پس منظر میں ایک ایسا سوال بھی موجود ہے جس پر شاید ہم نے اجتماعی طور پر کبھی سنجیدگی سے غور نہیں کیا۔

کیا تحصیل سمندری آئندہ بیس برسوں میں صرف ایک صارف (Consumer) معاشرہ رہے گی، یا ایک ایسا پیداواری (Manufacturing) علاقہ بھی بن سکتی ہے جہاں مقامی صنعتیں قائم ہوں، نوجوانوں کو باعزت روزگار ملے اور معیشت اپنی مضبوط بنیادوں پر کھڑی ہو سکے؟

یہ سوال کسی ایک فرد، ادارے یا حکومت سے متعلق نہیں، بلکہ ہم سب سے متعلق ہے۔


ایک سوال جس نے سوچنے پر مجبور کیا

کئی برسوں سے میرے ذہن میں ایک خیال بار بار آتا رہا ہے۔

ہم ہر سال خیرات دیتے ہیں۔

زکوٰۃ ادا کرتے ہیں۔

ضرورت مند خاندانوں کی مدد کرتے ہیں۔

راشن تقسیم کرتے ہیں۔

مریضوں کے علاج میں تعاون کرتے ہیں۔

یہ تمام کام اپنی جگہ نہایت اہم، قابلِ احترام اور دینی و انسانی ذمہ داری ہیں۔

لیکن ایک سوال اپنی جگہ برقرار رہتا ہے۔

اگر ان تمام روایتی فلاحی کاموں کو جاری رکھتے ہوئے، اضافی وسائل کا ایک محدود حصہ ایسے ادارے بنانے پر صرف کیا جائے جو مستقل روزگار پیدا کریں، تو کیا اس سے تحصیل سمندری کی معاشی سمت بدلنے میں مدد مل سکتی ہے؟

میں اس سوال کا حتمی جواب پیش نہیں کر رہا۔

نہ ہی یہ دعویٰ کرتا ہوں کہ یہی واحد راستہ ہے۔

یہ صرف ایک دعوتِ فکر ہے۔

شاید اس میں خامیاں ہوں۔

شاید اس میں بہتری کی گنجائش ہو۔

لیکن اگر اس کے نتیجے میں تحصیل سمندری کے ماہرین، صنعت کار، اساتذہ، چارٹرڈ اکاؤنٹنٹس، انجینئرز، قانون دان، سماجی کارکن، بیرونِ ملک مقیم اہلِ علاقہ اور نوجوان ایک تعمیری مکالمہ شروع کر دیں تو یہی اس تحریر کی سب سے بڑی کامیابی ہوگی۔


پاکستان کی اصل طاقت کہاں ہے؟

جب پاکستان کی معیشت پر گفتگو ہوتی ہے تو ہماری توجہ اکثر بڑے شہروں، بندرگاہوں، صنعتی زونز اور قومی منصوبوں کی طرف چلی جاتی ہے۔

لیکن حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کی اصل آبادی اور معاشی صلاحیت کا بڑا حصہ چھوٹے شہروں، تحصیلوں اور دیہی علاقوں میں موجود ہے۔

اگر یہی علاقے مضبوط ہوں گے تو ملک مضبوط ہوگا۔

اگر یہی علاقے روزگار پیدا کریں گے تو بڑے شہروں پر دباؤ بھی کم ہوگا۔

اگر یہی علاقے اپنی مقامی معیشت کو ترقی دیں گے تو قومی معیشت بھی زیادہ متوازن ہو سکتی ہے۔

اسی تناظر میں تحصیل سمندری صرف ایک جغرافیائی خطہ نہیں بلکہ ایک ایسا علاقہ ہے جس میں محنت، زرعی وسائل، انسانی صلاحیت اور ترقی کی خواہش موجود ہے۔

سوال صرف یہ ہے کہ کیا ہم ان صلاحیتوں کو ایک منظم معاشی سمت دے سکتے ہیں؟


صرف صارف بن کر رہ جانا

آئیے اپنی روزمرہ زندگی پر ایک نظر ڈالتے ہیں۔

صبح استعمال ہونے والا صابن۔

ٹوتھ پیسٹ۔

شیمپو۔

ڈش واش۔

ڈٹرجنٹ۔

ہینڈ واش۔

گھریلو صفائی کی مصنوعات۔

پیکنگ میٹریل۔

اور درجنوں دیگر مصنوعات۔

ان میں سے زیادہ تر اشیاء تحصیل سمندری میں تیار نہیں ہوتیں۔

ہم انہیں خریدتے ضرور ہیں، مگر ان کی تیاری، برانڈنگ اور زیادہ تر معاشی قدر کسی اور علاقے میں پیدا ہوتی ہے۔

اس کا مطلب یہ نہیں کہ تحصیل سمندری میں صلاحیت کی کمی ہے۔

بلکہ اس کا مطلب صرف یہ ہے کہ ہماری مقامی معیشت میں پیداواری سرگرمیوں کا دائرہ ابھی محدود ہے۔

یہی وہ نکتہ ہے جس پر سنجیدہ گفتگو کی ضرورت ہے۔


یہ کالم کس بارے میں نہیں ہے؟

اس مضمون کو آگے پڑھنے سے پہلے چند باتیں واضح کرنا ضروری ہیں۔

یہ کالم کسی موجودہ فلاحی ادارے پر تنقید نہیں ہے۔

یہ کسی صنعت کار کے خلاف نہیں ہے۔

یہ کسی سرکاری ادارے پر الزام نہیں ہے۔

یہ کسی سیاسی جماعت کا منشور بھی نہیں ہے۔

اور نہ ہی یہ ایک تیار شدہ بزنس پلان ہے۔

یہ صرف ایک سوچ ہے۔

ایک ابتدائی تصور۔

ایک سوال۔

جس پر شاید تحصیل سمندری کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے لوگ مل کر بہتر جواب تلاش کر سکتے ہیں۔


(حصہ اول جاری ہے — اگلے حصے میں ہم اس سوال کا تجزیہ کریں گے کہ کیا مسئلہ صرف سرمایہ کی کمی ہے، یا ہمیں افراد کے بجائے مضبوط اداروں کی تعمیر پر زیادہ توجہ دینے کی ضرورت ہے؟)

شیئر کریں: