سمندری ثقافت سیکشن

سمندری چمٹہ

سمندری کی لوک موسیقی میں چمٹے کا استعمال۔

تعارف

چمٹا سادہ سا ساز ہے جو لوہے کی دو لمبی پٹیوں سے بنتا ہے اور اُن پر چھوٹی دھاتی چھلیاں لگی ہوتی ہیں۔ ہلانے یا بجانے پر جھنکار پیدا ہوتی ہے جو محفل میں تال کا کام دیتی ہے۔

ساز اور آواز

چمٹے کی اصل شکل باورچی خانے کے چمٹے جیسی ہے، مگر اُس پر لگی چھلیاں اُسے ساز بنا دیتی ہیں۔ ہاتھ سے مارنے یا جھٹکا دینے پر تیز جھنکار نکلتی ہے۔

یہ سب سے سستا اور سیکھنے میں سب سے آسان ساز سمجھا جاتا ہے، اِسی لیے محفلوں میں عام ملتا ہے۔

کہاں استعمال ہوتا ہے

چمٹا زیادہ تر قوالی، صوفیانہ محفلوں اور بھنگڑے میں تال دینے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ درویشوں اور ملنگوں کے ہاتھ میں بھی یہ عام نظر آتا ہے۔

یاد رکھنے کی باتیں

  • چمٹا لوہے کی دو پٹیوں اور دھاتی چھلیوں سے بنتا ہے۔
  • اِس کی جھنکار محفل میں تال کا کام دیتی ہے۔
  • یہ سب سے سستا اور آسان روایتی ساز ہے۔
  • قوالی، صوفی محفل اور بھنگڑے میں استعمال ہوتا ہے۔
  • درویشوں اور ملنگوں کے ہاتھ میں عام نظر آتا ہے۔

عام سوالات

چمٹا سیکھنا آسان ہے؟

نسبتاً آسان ہے، مگر تال کی سمجھ ضروری ہے۔ بغیر تال کے یہ محفل میں شور بن جاتا ہے۔

کیا چمٹا صرف مذہبی محفلوں کا ساز ہے؟

نہیں۔ قوالی اور صوفی محفلوں میں زیادہ استعمال ہوتا ہے، مگر بھنگڑے اور لوک گیتوں میں بھی بجایا جاتا ہے۔

چمٹا کہاں سے ملتا ہے؟

سازوں کی دکانوں پر، اور کئی جگہ لوہار آرڈر پر بھی بنا دیتے ہیں۔ قیمت باقی سازوں کے مقابلے میں بہت کم ہوتی ہے۔