تعارف
سمندری کا لباس وہی ہے جو وسطی پنجاب کے دیہی علاقوں کا ہے — شلوار قمیص، سر پر پگڑی یا صافہ، اور سردیوں میں کھیس یا چادر۔ گرمی، گندم کی کٹائی اور کپاس کی چنائی — یہاں کا لباس اِنہی ضرورتوں کے مطابق ڈھلا ہے: کھلا، ہلکا اور سوتی۔
موسم اور کام کے مطابق لباس
سمندری کے موسم میں گرمی لمبی اور سخت ہوتی ہے، اِس لیے سوتی کپڑا سب سے زیادہ پہنا جاتا ہے۔ کھیت میں کام کرنے والے کھلی شلوار اور ڈھیلی قمیص کو ترجیح دیتے ہیں تاکہ ہوا لگتی رہے اور جھکنے، بیٹھنے اور بوجھ اٹھانے میں رکاوٹ نہ ہو۔
سردیوں میں اُسی لباس کے اوپر کھیس، لوئی یا اونی چادر آ جاتی ہے۔ کھیس گھر میں بُنا ہوا موٹا سوتی کپڑا ہوتا ہے جو صدیوں سے پنجاب کے دیہات کا سردیوں کا ساتھی ہے۔
شہر اور گاؤں کا فرق
سمندری شہر کے بازاروں میں نوجوانوں کا لباس اب فیصل آباد اور لاہور جیسا ہے — جینز، ٹی شرٹ، تیار شدہ قمیص شلوار۔ مگر جمعہ، عید اور شادی بیاہ پر وہی روایتی لباس واپس آ جاتا ہے۔
دیہات میں تبدیلی سست ہے۔ بزرگ آج بھی سلے ہوئے کی بجائے درزی سے سلوایا لباس پہنتے ہیں، اور پگڑی یا صافہ روزمرہ کا حصہ ہے۔
یاد رکھنے کی باتیں
- مردوں کا بنیادی لباس شلوار قمیص ہے؛ سر پر پگڑی، صافہ یا ٹوپی۔
- خواتین شلوار قمیص کے ساتھ دوپٹہ اور سردیوں میں چادر اوڑھتی ہیں۔
- گرمی کے لیے سوتی (کھڈی، لٹھا، بوسکی) اور سردی کے لیے کھیس و لوئی۔
- شادی بیاہ کے کپڑے الگ رکھے جاتے ہیں — عام طور پر ریشمی یا کڑھائی والے۔
- سمندری کے مقامی درزی آج بھی ناپ لے کر سلائی کرتے ہیں، تیار لباس کم چلتا ہے۔