تعارف
حکیم طبِ یونانی کا معالج ہوتا ہے۔ کبھی ہر قصبے اور بڑے گاؤں میں حکیم ہوتا تھا جو نبض دیکھ کر دوا دیتا۔ آج اُن کی تعداد کم ہے، مگر یہ روایت مکمل طور پر ختم نہیں ہوئی۔
حکیم کا طریقہ
حکیم مریض کی نبض، رنگت اور علامات دیکھ کر مزاج کا اندازہ لگاتا اور اُس کے مطابق جڑی بوٹیوں سے مرکب تیار کرتا۔ اُس کا زور پرہیز اور خوراک پر بھی ہوتا تھا۔
دوا اکثر سفوف، شربت، معجون یا گولی کی شکل میں دی جاتی تھی۔
آج کیا احتیاط کریں
پاکستان میں طبِ یونانی کے معالجین کے لیے رجسٹریشن کا نظام موجود ہے۔ اگر رجوع کرنا ہی ہو تو رجسٹرڈ معالج سے کریں اور اپنی جدید دواؤں کے بارے میں ضرور بتائیں۔
کسی بھی سنگین یا تشخیص شدہ بیماری — دل، گردے، جگر، ذیابیطس، کینسر — میں ڈاکٹر کا علاج بند کر کے کسی متبادل پر جانا خطرناک ہو سکتا ہے۔
یاد رکھنے کی باتیں
- حکیم طبِ یونانی کا معالج ہے اور نبض و علامات دیکھ کر دوا دیتا ہے۔
- دوا سفوف، شربت، معجون یا گولی کی شکل میں ہوتی ہے۔
- پرہیز اور خوراک اِس نظام کا اہم حصہ ہیں۔
- رجوع کرنا ہو تو رجسٹرڈ معالج ہی سے کریں۔
- سنگین بیماری میں ڈاکٹر کا علاج بند کرنا خطرناک ہے۔