تعارف
کچا گھر مٹی، بھوسے اور لکڑی سے بنا ہوا وہ گھر ہے جو صدیوں سے پنجاب کے دیہات کی پہچان رہا ہے۔ سمندری میں اب اِن کی تعداد کم ہو گئی ہے، مگر یہ بالکل ختم نہیں ہوئے۔
کیسے بنتا ہے
دیواریں چکنی مٹی اور بھوسے کو ملا کر بنائی جاتی ہیں۔ چھت میں شہتیر یا کڑیاں ڈال کر اُن پر سرکنڈے یا لکڑی بچھائی جاتی ہے اور اوپر مٹی کی موٹی تہہ جما دی جاتی ہے۔
فرش اور دیواروں پر گوبر اور مٹی کا لیپ کیا جاتا ہے جو گرد بٹھاتا ہے اور سطح کو ہموار رکھتا ہے۔
خوبی اور کمزوری
کچے گھر کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ وہ گرمی میں ٹھنڈا اور سردی میں گرم رہتا ہے۔ سامان مقامی ہوتا ہے اور لاگت بہت کم۔
کمزوری یہ ہے کہ زیادہ بارش میں نقصان ہوتا ہے اور ہر سال مرمت کرنی پڑتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ لوگ پکے گھر کی طرف چلے گئے۔
یاد رکھنے کی باتیں
- دیواریں چکنی مٹی اور بھوسے کے مرکب سے بنتی ہیں۔
- چھت میں شہتیر، سرکنڈے اور اوپر مٹی کی تہہ ہوتی ہے۔
- گرمی میں ٹھنڈا اور سردی میں گرم رہتا ہے۔
- تعمیر کا سامان مقامی اور لاگت بہت کم ہوتی ہے۔
- ہر سال مرمت درکار ہوتی ہے اور بارش سے نقصان ہو سکتا ہے۔