تعارف
لوک ادب وہ ادب ہے جو عوام نے خود بنایا — گیت، کہاوتیں، پہیلیاں، لوریاں اور قصے۔ اِس کا کوئی مصنف نہیں، مگر اِس میں پورے علاقے کی سوچ اور تجربہ محفوظ ہوتا ہے۔
لوک ادب کی شکلیں
لوک ادب کئی صورتوں میں ملتا ہے: لوک گیت، ماہیے، ٹپے، بولیاں، کہاوتیں، محاورے، پہیلیاں، لوریاں اور کہانیاں۔ ہر شکل کا اپنا موقع اور اپنا انداز ہے۔
اِن سب میں مشترک بات یہ ہے کہ یہ لکھی نہیں گئیں — یہ سن کر سیکھی اور سنا کر آگے پہنچائی گئیں۔
اہمیت
لوک ادب سے پتہ چلتا ہے کہ عام آدمی کیا سوچتا تھا، کس بات پر ہنستا تھا اور کس بات سے ڈرتا تھا۔ یہ ایسی معلومات ہیں جو سرکاری تاریخ میں نہیں ملتیں۔
یاد رکھنے کی باتیں
- لوک ادب عوام کا بنایا ہوا بے نام ادب ہے۔
- گیت، کہاوتیں، پہیلیاں، لوریاں اور قصے اِس کی شکلیں ہیں۔
- یہ لکھا نہیں جاتا بلکہ سن کر سیکھا جاتا ہے۔
- اِس میں عام آدمی کی سوچ اور تجربہ محفوظ ہوتا ہے۔
- ریکارڈنگ کے بغیر یہ ایک نسل میں ضائع ہو سکتا ہے۔