تعارف
کپاس کو پنجاب میں «سفید سونا» کہا جاتا ہے۔ یہ خریف کی نقد آور فصل ہے اور اِس کا تعلق براہِ راست فیصل آباد کی ٹیکسٹائل صنعت سے ہے — یعنی سمندری کے کھیت اور شہر کی فیکٹریاں ایک ہی زنجیر کا حصہ ہیں۔
کاشت اور چنائی
کپاس کی بوائی عام طور پر اپریل مئی میں ہوتی ہے اور چنائی اگست سے شروع ہو کر کئی مہینے چلتی ہے، کیونکہ ٹینڈے مرحلہ وار کھلتے ہیں۔
چنائی زیادہ تر خواتین کرتی ہیں اور یہ محنت طلب کام ہے۔ اِس کی اجرت عام طور پر وزن کے حساب سے دی جاتی ہے۔
مسائل
کپاس کی فصل کیڑوں سے بہت متاثر ہوتی ہے، خاص طور پر سنڈی سے۔ اِسی لیے اِس پر سپرے کا خرچ زیادہ آتا ہے۔ موسم کی زیادہ گرمی یا بے وقت بارش بھی فصل کو نقصان پہنچاتی ہے۔
یاد رکھنے کی باتیں
- کپاس خریف کی نقد آور فصل ہے — «سفید سونا»۔
- بوائی اپریل مئی میں، چنائی اگست سے شروع ہوتی ہے۔
- چنائی مرحلہ وار ہوتی ہے کیونکہ ٹینڈے ایک ساتھ نہیں کھلتے۔
- چنائی زیادہ تر خواتین کرتی ہیں، اجرت وزن کے حساب سے۔
- سنڈی اور موسم کی شدت سب سے بڑے خطرات ہیں۔