تعارف
لوک گیت وہ گیت ہیں جن کا کوئی ایک شاعر نہیں — یہ نسل در نسل زبانی چلے آ رہے ہیں۔ سمندری کے دیہات میں شادی، فصل، جدائی اور خوشی — ہر موقع کا اپنا گیت ہے۔
لوک گیت کیسے بنتے ہیں
لوک گیت کسی ایک شخص کی تخلیق نہیں ہوتے۔ کوئی بات کسی نے کہی، دوسرے نے گائی، تیسرے نے اُس میں اپنا مصرع جوڑا — اور یوں گیت پورے علاقے کا ہو گیا۔ یہی وجہ ہے کہ ایک ہی گیت مختلف گاؤں میں تھوڑا مختلف سنائی دیتا ہے۔
اِن گیتوں میں مقامی زندگی جھلکتی ہے — کھیت، نہر، بیل، چرخہ، ساون اور رخصتی۔
کون گاتا ہے
روایتی طور پر یہ گیت خواتین کی محفلوں میں سب سے زیادہ گائے جاتے ہیں — خاص طور پر شادی کی راتوں میں ڈھولکی کے ساتھ۔ مردوں میں یہ کھیت میں کام کے دوران اور میلوں میں گائے جاتے تھے۔
یاد رکھنے کی باتیں
- لوک گیت کا کوئی ایک شاعر نہیں ہوتا — یہ اجتماعی ورثہ ہے۔
- ایک ہی گیت مختلف گاؤں میں تھوڑا مختلف ملتا ہے۔
- شادی، فصل، جدائی اور موسم — ہر موقع کا اپنا گیت ہے۔
- ڈھولکی خواتین کی گیت محفلوں کا لازمی ساز ہے۔
- یہ گیت لکھے نہیں جاتے، اِسی لیے اِن کے کھو جانے کا خطرہ زیادہ ہے۔