تعارف
ٹپہ پنجابی لوک گیت کی تیز اور جاندار صنف ہے۔ دو مختصر مصرعے، اونچی لے، اور اکثر ڈھولکی یا تالی کے ساتھ — شادی کی راتوں میں ٹپوں کے بغیر محفل ادھوری سمجھی جاتی ہے۔
ٹپے کا انداز
ٹپہ چھوٹا ہوتا ہے مگر اُس کی لے اونچی اور کھینچ والی ہوتی ہے۔ گانے والا آواز کو لمبا کھینچتا ہے، اور یہی اُس کی پہچان ہے۔
موضوع کوئی بھی ہو سکتا ہے — محبت، شکوہ، مذاق، یا سسرال اور نندوں پر ہلکی پھلکی چوٹ۔ شادی کی محفل میں یہی مذاق ماحول بناتا ہے۔
محفل میں ٹپہ
عام طور پر ایک طرف سے ٹپہ کہا جاتا ہے اور دوسری طرف سے جواب آتا ہے۔ دلہن اور دولہا کے خاندانوں کے درمیان یہ مقابلہ محفل کی جان ہوتا ہے۔
یاد رکھنے کی باتیں
- ٹپہ عام طور پر دو مصرعوں کا ہوتا ہے۔
- اِس کی لے اونچی اور کھینچ والی ہوتی ہے۔
- شادی کی محفلوں میں ڈھولکی کے ساتھ گایا جاتا ہے۔
- موضوع میں مذاق اور چھیڑ چھاڑ عام ہے۔
- دونوں خاندانوں کے درمیان جواب در جواب کا مقابلہ ہوتا ہے۔