سمندری ثقافت سیکشن

سمندری چارپائی بنائی

سمندری میں چارپائی بنانے کا روایتی ہنر۔

تعارف

چارپائی پنجاب کے گھر کی سب سے کارآمد چیز ہے — دن میں بیٹھک، رات میں بستر، اور مہمان آ جائے تو مہمان خانہ۔ اور یہ سب ایک لکڑی کے ڈھانچے اور بُنی ہوئی رسی سے بنتا ہے۔

چارپائی کیسے بنتی ہے

پہلے لکڑی کا ڈھانچہ بنایا جاتا ہے — چار پائے اور چار لمبی لکڑیاں (سیرو اور بائی)۔ عام طور پر شیشم یا کیکر کی لکڑی استعمال ہوتی ہے کیونکہ وہ مضبوط اور دیرپا ہے۔

اِس کے بعد بُنائی ہوتی ہے۔ سوتی رسی (نواڑ) یا پلاسٹک کی رسی کو ایک خاص ترتیب میں بُنا جاتا ہے۔ بُنائی جتنی کسی ہوئی ہو، چارپائی اُتنی زیادہ چلتی ہے۔

بُنائی کے انداز

پنجاب میں کئی انداز رائج ہیں — سادہ بُنائی، اور نقش والی بُنائی جس میں رنگین رسی سے پھول یا ڈیزائن بنایا جاتا ہے۔ اچھی نقش والی چارپائی گھر کی زینت سمجھی جاتی ہے۔

چارپائی ڈھیلی ہو جائے تو اُسے دوبارہ کسا جاتا ہے، اور یہ بھی ایک الگ ہنر ہے۔

یاد رکھنے کی باتیں

  • ڈھانچہ عام طور پر شیشم یا کیکر کی لکڑی کا ہوتا ہے۔
  • بُنائی سوتی نواڑ یا پلاسٹک کی رسی سے کی جاتی ہے۔
  • نقش والی بُنائی میں رنگین رسی سے ڈیزائن بنایا جاتا ہے۔
  • کسی ہوئی بُنائی چارپائی کی عمر بڑھاتی ہے۔
  • ڈھیلی ہونے پر دوبارہ کسنا الگ ہنر ہے۔

عام سوالات

چارپائی کے لیے کون سی لکڑی بہترین ہے؟

شیشم سب سے مضبوط اور دیرپا سمجھی جاتی ہے۔ کیکر بھی استعمال ہوتی ہے اور نسبتاً سستی پڑتی ہے۔

نواڑ اور پلاسٹک کی رسی میں کیا فرق ہے؟

نواڑ سوتی ہوتی ہے، آرام دہ اور سانس لینے والی، مگر جلدی ڈھیلی ہو جاتی ہے۔ پلاسٹک کی رسی زیادہ چلتی ہے مگر گرمی میں کم آرام دہ محسوس ہوتی ہے۔

چارپائی گرمی میں آرام دہ کیوں ہوتی ہے؟

کیونکہ بُنائی میں سوراخ ہوتے ہیں جن سے نیچے سے ہوا گزرتی رہتی ہے۔ اِسی لیے گرمیوں میں صحن یا چھت پر چارپائی گدے سے زیادہ آرام دہ لگتی ہے۔