سمندری ثقافت سیکشن

سمندری لکڑی کا کام

سمندری میں لکڑی کے روایتی کام اور فرنیچر۔

تعارف

لکڑی کا کام یعنی ترکھان کا ہنر دیہی زندگی کی ریڑھ کی ہڈی رہا ہے۔ ہل، چارپائی، دروازے، کھڑکیاں، صندوق اور کھیتی کے اوزار — سب اِسی ہنر سے بنتے تھے۔

ترکھان کا کام

پہلے ہر گاؤں میں ترکھان ہوتا تھا جو پورے گاؤں کے اوزار، ہل اور فرنیچر بناتا اور مرمت کرتا۔ اُس کی اجرت اکثر فصل کے وقت اناج کی صورت میں ادا کی جاتی تھی۔

اُس کے اوزار سادہ تھے — آری، رندہ، بسولا اور چھینی — مگر کام نہایت مہارت کا۔

نقاشی

لکڑی پر نقاشی پنجاب کا خوبصورت ہنر ہے۔ پرانی حویلیوں کے دروازے، کھڑکیاں اور جہیز کے صندوق اِس کی بہترین مثالیں ہیں۔ شیشم کی لکڑی نقاشی کے لیے سب سے موزوں سمجھی جاتی ہے۔

یاد رکھنے کی باتیں

  • ہر گاؤں میں ترکھان گاؤں بھر کے اوزار اور فرنیچر بناتا تھا۔
  • اجرت اکثر فصل کے وقت اناج کی صورت میں ادا ہوتی تھی۔
  • بنیادی اوزار: آری، رندہ، بسولا اور چھینی۔
  • شیشم نقاشی اور فرنیچر کے لیے بہترین لکڑی مانی جاتی ہے۔
  • پرانے دروازے اور جہیز کے صندوق نقاشی کی عمدہ مثالیں ہیں۔

عام سوالات

شیشم کی لکڑی کیوں بہترین سمجھی جاتی ہے؟

کیونکہ وہ مضبوط ہے، دیمک کا مقابلہ بہتر کرتی ہے، اور اُس پر نقاشی صاف اُبھرتی ہے۔ اِسی لیے فرنیچر میں اِسے سب سے زیادہ پسند کیا جاتا ہے۔

کیا اب بھی گاؤں میں ترکھان ہوتے ہیں؟

ہوتے ہیں، مگر اُن کا کام بدل گیا ہے۔ اب زیادہ تر دروازے، کھڑکیاں اور فرنیچر بناتے ہیں؛ کھیتی کے اوزار زیادہ تر لوہے اور مشین کے آ گئے ہیں۔

لکڑی کے کام میں مہارت کیسے آتی ہے؟

روایتی طریقہ استادی شاگردی ہے — کئی سال کسی تجربہ کار ترکھان کے ساتھ کام کر کے۔ اب فنی تربیتی ادارے بھی یہ ہنر سکھاتے ہیں۔