سمندری ثقافت سیکشن

سمندری مٹی کا کام

سمندری کے کمہاروں کا مٹی کے برتن بنانے کا فن۔

تعارف

مٹی کا کام یعنی کمہار کا ہنر برصغیر کے قدیم ترین پیشوں میں سے ہے۔ گھڑا، صراحی، مٹکا، پیالے اور چراغ — یہ سب چاک پر بنتے ہیں اور آوے میں پکائے جاتے ہیں۔

برتن کیسے بنتے ہیں

پہلے چکنی مٹی کو صاف کر کے گوندھا جاتا ہے، پھر چاک پر رکھ کر ہاتھ سے شکل دی جاتی ہے۔ خشک ہونے کے بعد برتن کو آوے (بھٹی) میں پکایا جاتا ہے تاکہ وہ سخت ہو جائے۔

پکنے کے بعد کچھ برتنوں پر رنگ یا نقش بنایا جاتا ہے، خاص طور پر اُن پر جو سجاوٹ کے لیے ہوں۔

گھڑے کا کمال

گھڑے میں پانی ٹھنڈا رہنے کی وجہ سائنسی ہے — مٹی کی دیوار میں باریک سوراخ ہوتے ہیں جن سے تھوڑا پانی رِس کر باہر آتا اور بھاپ بن کر اڑتا ہے، اور یہی عمل اندر کے پانی کو ٹھنڈا کر دیتا ہے۔

اِسی لیے بجلی نہ ہو تب بھی گھڑے کا پانی ٹھنڈا رہتا ہے — اور گرمیوں میں یہ بڑی نعمت ہے۔

یاد رکھنے کی باتیں

  • چکنی مٹی کو گوندھ کر چاک پر شکل دی جاتی ہے۔
  • برتن کو آوے یعنی بھٹی میں پکایا جاتا ہے۔
  • گھڑا، صراحی، مٹکا، پیالے اور چراغ عام مصنوعات ہیں۔
  • گھڑے کا پانی بخارات کے عمل سے ٹھنڈا رہتا ہے۔
  • پلاسٹک اور اسٹیل کے برتنوں نے اِس پیشے کو نقصان پہنچایا ہے۔

عام سوالات

گھڑے کا پانی ٹھنڈا کیوں رہتا ہے؟

مٹی کی دیوار سے تھوڑا پانی باہر رِس کر بھاپ بنتا ہے۔ بھاپ بننے میں گرمی خرچ ہوتی ہے، اِس لیے اندر کا پانی ٹھنڈا ہو جاتا ہے۔

کیا مٹی کے برتن صحت کے لیے بہتر ہیں؟

اِن میں کیمیکل نہیں ہوتا اور بہت سے لوگ ذائقے کے لحاظ سے بھی اِنہیں پسند کرتے ہیں۔ اہم بات صفائی ہے — گھڑے کو باقاعدگی سے دھونا ضروری ہے۔

کمہار کا پیشہ کیوں کم ہو رہا ہے؟

پلاسٹک، اسٹیل اور فریج نے مٹی کے برتنوں کی طلب کم کر دی۔ اب زیادہ تر کام سجاوٹی برتنوں اور مخصوص موسم تک محدود رہ گیا ہے۔